بھٹکل2؍مارچ (ایس او نیوز) ایک زمانۂ دراز سے جنگلاتی زمین پر قبضہ کرکے یا نسل درنسل جنگلوں ہی میں زندگی بسر کرنے والے قبائلی باشندوں کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جنگلوں سے نکالے جانے کی کارروائی پر روک لگانے اور ان جنگل واسیوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کرناٹکا رعیت سنگھا کی بھٹکل تعلقہ کمیٹی نے وزیراعظم کے نام میمورنڈم دیا۔
اسسٹنٹ کمشنر بھٹکل کی معرفت دئے گئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں ان جنگل واسیوں کی طرف سے رہائش اور کھیتی باڑی کے لئے استعمال کی جانے والی زمینوں کو جائزقانونی دستاویزات فراہم کرنے کے لئے سرکاری محکمہ جات سے بار بار درخواستیں دی جارہی ہیں۔ ضروری کاغذات جمع کیے جارہے ہیں۔مقامی اور ریاستی سطح سے آگے بڑھ کر مرکزی سطح تک ان کے قانونی حقوق کے لئے احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے مطالبات سامنے لائے گئے ہیں۔لیکن اب تک حکومت کی جانب سے جائزہ لینے اورتحقیقات کے نام پر معاملے کو ٹالا جاتا رہا ہے۔
اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ ان جنگل واسیوں کے پاس ان جنگلاتی زمینوں پر قبضہ ہونے کے 75سال پرانے کاغذات موجود نہ ہونے کا سبب بتاکر انہیں اپنی زمینیں خالی کرنے اور جنگلوں سے بھگانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔جنگلاتی زمین کے حقوق سے متعلقہ کمیٹی کے پاس داخل کی گئی اپیلوں کو بھی مسترد کیا جارہا ہے۔ہماری حکومت کی کوتاہی کی وجہ سے سپریم کورٹ نے جنگل واسیوں کے انخلاء کا حکم جاری کیا ہے۔اور19جولائی تک انخلاء کی کارروائی کے تعلق سے رپورٹ دینے کے لئے کہا ہے۔لہٰذااس وقت حکومت کو چاہیے کہ جنگل واسیوں کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کو تحفظ فراہم کرنے والے دستاویزات اور درست معلومات سپریم کورٹ میں داخل کرے۔چونکہ سپریم کورٹ نے 28فروری کو اپنے حکم پر اسٹے لگایا ہے ، اس لئے اسی عرصے میں مرکزی حکومت کوئی ایسا قانونی راستہ نکالے جس سے جنگل واسیوں کے حقوق کا تحفظ ہواور انہیں اپنی زمینوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے کی نوبت نہ آئے۔